- احادیثِ نبوی ﷺ

 

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنُ الرَّحِيم

وَقَالَ فُضَيْلٌ عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، ‏{‏مُتْكَأً‏}‏ الأُتْرُجُّ قَالَ فُضَيْلٌ الأُتْرُجُّ بِالْحَبَشِيَّةِ مُتْكًا‏.‏ وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ رَجُلٍ عَنْ مُجَاهِدٍ مُتْكًا كُلُّ شَىْءٍ قُطِعَ بِالسِّكِّينِ‏.‏ وَقَالَ قَتَادَةُ ‏{‏لَذُو عِلْمٍ‏}‏‏.‏ عَامِلٌ بِمَا عَلِمَ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ جُبَيْرٍ صُوَاعٌ مَكُّوكُ الْفَارِسِيِّ الَّذِي يَلْتَقِي طَرَفَاهُ، كَانَتْ تَشْرَبُ بِهِ الأَعَاجِمُ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‏{‏تُفَنِّدُونِ‏}‏ تُجَهِّلُونِ‏.‏ وَقَالَ غَيْرُهُ غَيَابَةٌ كُلُّ شَىْءٍ غَيَّبَ عَنْكَ شَيْئًا فَهْوَ غَيَابَةٌ‏.‏ وَالْجُبُّ الرَّكِيَّةُ الَّتِي لَمْ تُطْوَ‏.‏ ‏{‏بِمُؤْمِنٍ لَنَا‏}‏ بِمُصَدِّقٍ‏.‏ ‏{‏أَشُدَّهُ‏}‏ قَبْلَ أَنْ يَأْخُذَ فِي النُّقْصَانِ، يُقَالُ بَلَغَ أَشُدَّهُ وَبَلَغُوا أَشُدَّهُمْ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ وَاحِدُهَا شَدٌّ، وَالْمُتَّكَأُ مَا اتَّكَأْتَ عَلَيْهِ لِشَرَابٍ أَوْ لِحَدِيثٍ أَوْ لِطَعَامٍ‏.‏ وَأَبْطَلَ الَّذِي قَالَ الأُتْرُجُّ، وَلَيْسَ فِي كَلاَمِ الْعَرَبِ الأُتْرُجُّ، فَلَمَّا احْتُجَّ عَلَيْهِمْ بِأَنَّهُ الْمُتَّكَأُ مِنْ نَمَارِقَ فَرُّوا إِلَى شَرٍّ مِنْهُ، فَقَالُوا إِنَّمَا هُوَ الْمُتْكُ سَاكِنَةَ التَّاءِ، وَإِنَّمَا الْمُتْكُ طَرَفُ الْبَظْرِ وَمِنْ ذَلِكَ قِيلَ لَهَا مَتْكَاءُ وَابْنُ الْمَتْكَاءِ، فَإِنْ كَانَ ثَمَّ أُتْرُجٌّ فَإِنَّهُ بَعْدَ الْمُتَّكَإِ‏.‏ ‏{‏شَغَفَهَا‏}‏ يُقَالُ إِلَى شِغَافِهَا وَهْوَ غِلاَفُ قَلْبِهَا، وَأَمَّا شَعَفَهَا فَمِنَ الْمَشْعُوفِ ‏{‏أَصْبُ‏}‏ أَمِيلُ‏.‏ ‏{‏أَضْغَاثُ أَحْلاَمٍ‏}‏ مَا لاَ تَأْوِيلَ لَهُ، وَالضِّغْثُ مِلْءُ الْيَدِ مِنْ حَشِيشٍ وَمَا أَشْبَهَهُ، وَمِنْهُ ‏{‏وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا‏}‏ لاَ مِنْ قَوْلِهِ ‏{‏أَضْغَاثُ أَحْلاَمٍ‏}‏ وَاحِدُهَا ضِغْثٌ ‏{‏نَمِيرُ‏}‏ مِنَ الْمِيرَةِ ‏{‏وَنَزْدَادُ كَيْلَ بَعِيرٍ‏}‏ مَا يَحْمِلُ بَعِيرٌ‏.‏ ‏{‏أَوَى إِلَيْهِ‏}‏ ضَمَّ إِلَيْهِ، السِّقَايَةُ مِكْيَالٌ ‏{‏تَفْتَأُ‏}‏ لاَ تَزَالُ‏.‏ ‏{‏حَرَضًا‏}‏ مُحْرَضًا، يُذِيبُكَ الْهَمُّ‏.‏ ‏{‏تَحَسَّسُوا‏}‏ تَخَبَّرُوا‏.‏ ‏{‏مُزْجَاةٍ‏}‏ قَلِيلَةٍ ‏{‏غَاشِيَةٌ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ‏}‏ عَامَّةٌ مُجَلِّلَةٌ‏.

 

1. باب قَوْلِهِ ‏{‏وَيُتِمُّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَعَلَى آلِ يَعْقُوبَ‏}‏الآية

وَقَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ الْكَرِيمُ بْنُ الْكَرِيمِ بْنِ الْكَرِيمِ بْنِ الْكَرِيمِ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ‏"‏‏.‏

Narrated By 'Abdullah bin Umar : The Prophet said, "The honourable, the son of the honourable the son of the honourable, i.e. Joseph, the son of Jacob, the son of Isaac, the son of Abraham."

ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالصمد نے ، انہوں نے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار سے،انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے عبداللہ بن عمرؓ سے، انہوں نے نبی ﷺ سے ، آپؐ نے فرمایا، عزت دار، عزت دار کے بیٹے، عزر دار کے پوتے، عزت دار کے پڑپوتے یوسفؑ ہیں۔یعقوبؑ کے بیٹے، وہ اسحاقؑ کے بیتٹے، وہ ابراہیمؑ کے بیٹے (سب پیغمبر تھے)۔

2. باب قَوْلِهِ ‏{‏لَقَدْ كَانَ فِي يُوسُفَ وَإِخْوَتِهِ آيَاتٌ لِلسَّائِلِينَ‏}‏

حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَىُّ النَّاسِ أَكْرَمُ قَالَ ‏"‏ أَكْرَمُهُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاهُمْ ‏"‏‏.‏ قَالُوا لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَأَكْرَمُ النَّاسِ يُوسُفُ نَبِيُّ اللَّهِ ابْنُ نَبِيِّ اللَّهِ ابْنِ نَبِيِّ اللَّهِ ابْنِ خَلِيلِ اللَّهِ ‏"‏‏.‏ قَالُوا لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَعَنْ مَعَادِنِ الْعَرَبِ تَسْأَلُونِي ‏"‏‏.‏ قَالُوا نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَخِيَارُكُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُكُمْ فِي الإِسْلاَمِ إِذَا فَقِهُوا ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ أَبُو أُسَامَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ‏.‏

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle was asked, "Who are the most honourable of the people?" The Prophet said, "The most honourable of them in Allah's Sight are those who keep their duty to Allah and fear Him. They said, "We do not ask you about that." He said, "Then the most honourable of the people is Joseph, Allah's prophet, the son of Allah's prophet, the son of Allah's prophet, the son of Allah's Khalil i.e. Abraham) They said, "We do not ask you about that." The Prophet said, Do you ask about (the virtues of the ancestry of the Arabs?" They said, "Yes," He said, "Those who were the best amongst you in the Pre-Islamic Period are the best amongst you in Islam if they comprehend (the Islamic religion)."

مجھ سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدہ بن سلیمان نے، انہوں نے عبیداللہ عمری سے، انہوں نے سعید بن ابی سعید سے، انہوں نے ابو ہریرہؓ سے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کون شخص لوگوں میں عزت دار ہے (یعنی اللہ کے نزدیک) آپؐ نے فرمایا جو زیادہ پرہیزگار ہو۔ لوگوں نے کہا ہم یہ نہیں پوچھتے۔ آپؐ نے فرمایا پھر تو سب سے زیادہ عزت دار (یعنی خاندان کے لحاظ سے) یوسفؑ پیغمبر ہیں۔ پیغمبر کے بیٹے، پیغمبر کے پوتے، خلیل اللہ کے پڑپوتے۔ انہوں نے کہا ہم یہ نہیں پوچھتے۔ آپؐ نے فرمایا تم شاید عرب کے خاندان کو پوچھتے ہو۔ انہوں نے عرض کیا جی ہاں۔ آپؐ نے فرمایا عربوں کا یہ حال ہے جو لوگ جاہلیت کے زمانے میں اچھے (اور شریف ) تھے وہی اسلام کے زمانے میں بھی اچھے ہیں بشرطیکہ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کر لیں۔ عبدہ کے ساتھ اس حدیث کو ابو اسامہ نے بھی عبیداللہ سے روایت کیا ہے۔

3. باب قَوْلِهِ ‏{‏قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنْفُسُكُمْ أَمْرًا‏}‏ ‏{‏سَوَّلَتْ‏}‏ زَيَّنَتْ

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ،‏.‏ قَالَ وَحَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ النُّمَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الأَيْلِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، وَعَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ، وَعُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ حَدِيثِ، عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الإِفْكِ مَا قَالُوا فَبَرَّأَهَا اللَّهُ، كُلٌّ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنَ الْحَدِيثِ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنْ كُنْتِ بَرِيئَةً فَسَيُبَرِّئُكِ اللَّهُ، وَإِنْ كُنْتِ أَلْمَمْتِ بِذَنْبٍ فَاسْتَغْفِرِي اللَّهَ وَتُوبِي إِلَيْهِ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ إِنِّي وَاللَّهِ لاَ أَجِدُ مَثَلاً إِلاَّ أَبَا يُوسُفَ ‏{‏فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ‏}‏ وَأَنْزَلَ اللَّهُ ‏{‏إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالإِفْكِ‏}‏ الْعَشْرَ الآيَاتِ‏.‏

Narrated By Az-Zuhri : Urwa bin Az-Zubair, Said bin Al-Musaiyab, 'Al-Qama bin Waqqas and 'Ubaidullah bin 'Abdullah related the narration of 'Aisha, the wife the Prophet, when the slanderers had said about her what they had said and Allah later declared her innocence. Each of them related a part of the narration (wherein) the Prophet said (to 'Aisha). "If you are innocent, then Allah will declare your innocence: but if you have committed a sin, then ask for Allah's Forgiveness and repent to him." 'Aisha said, "By Allah, I find no example for my case except that of Joseph's father (when he said), 'So (for me) patience is most fitting.' " Then Allah revealed the ten Verses: "Verily those who spread the slander are a gang amongst you..." (24.11)

ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے، انہوں نے صالح بن کیسان سے، انہوں نے ابن شھاب سے، دوسری سند اور ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن عمر النمیری نے، کہا ہم سے یونس بن یزید ایلی نے ، کہا میں نے زہری سے سنا، کہا میں نے عروہ بن زبیر اور سعید بن مسیب اور علقمہ بن وقاص اور عبداللہ بن عبداللہ سے سنا۔ انہوں نے عائشہؓ پر تہمت لگانے کا واقعہ بیان کیا، جب تہمت لگانے والوں نے تہمت لگائی، پھر اللہ نے ان کی پاکی ظاہر کر دی۔ زہری نے کہا ان چاروں شخصوں نے مجھ سے اس واقعہ کا کچھ کچھ ٹکڑا بیان کیا۔ نبی ﷺ نے (عائشہؓ سے) فرمایا اگر تو پاک ہے تو اللہ عنقریب تیری پاکی ظاہر کر دے گا اور اگر تو آلودہ ہو گئی (تجھ سے کوئی تقصیر ہو گئی) تو اللہ سے بخشش مانگ، توبہ کر (اپنے قصور کا اقرار کر لے)۔ عائشہؓ کہتی ہیں کہ میں نے آپؐ کو یہ جواب دیا کہ میں اپنی مثال یوسفؑ کے والد کی طرح پاتی ہوں۔ عمدہ صبر کرنا یہی معلوم ہوتا ہے جو تم کہہ رہے ہو اس پر خدا میری مدد کرنے والا ہے پھر اللہ تعالٰی نے یہ آیتیں (سورۃ نور کی) نازل فرمائیں اِنَّ الَّذِینَ جَآءُوا بَا الاِفکِ دس آیتیں۔


حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ حَدَّثَنِي مَسْرُوقُ بْنُ الأَجْدَعِ، قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ رُومَانَ، وَهْىَ أُمُّ عَائِشَةَ قَالَتْ بَيْنَا أَنَا وَعَائِشَةُ أَخَذَتْهَا الْحُمَّى، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَعَلَّ فِي حَدِيثٍ تُحُدِّثَ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ نَعَمْ وَقَعَدَتْ عَائِشَةُ قَالَتْ مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَيَعْقُوبَ وَبَنِيهِ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ‏.

Narrated By Um Ruman : Who was 'Aisha's mother: While I was with 'Aisha, 'Aisha got fever, whereupon the Prophet said, "Probably her fever is caused by the story related by the people (about her)." I said, "Yes." Then 'Aisha sat up and said, "My example and your example is similar to that of Jacob and his sons: 'Nay, but your minds have made up a tale. So (for me) patience is most fitting. It is Allah (alone) Whose help can be sought against that which you assert.' (12.18)

ہم سے موسٰی بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو عوانہ نے، انہوں نے حصین بن عبدالرحمٰن سے، انہوں نے ابو وائل (شقیق بن سلمہ) سے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے مسروق بن اجدع نے بیان کیا، کہا مجھ سے ام رمان نے جو عائشہؓ کی والدہ تھیں بیان کیا، انہوں نے کہا کہ عائشہؓ اور میں بیٹی تھیں اتنے میں عائشہؓ کو بخار چڑھ آیا۔ نبی ﷺ نے ان کی بیماری کا حال سن کر فرمایا شاید وہ تہمت کی خبر سن کر بیمار ہو گئی ہے۔ میں نے کہا جی ہاں۔ اور عائشہؓ اٹھ کو بیٹھی اور کہنے لگی میری اور تمھاری مثل اس وقت وہی ہے جو یعقوبؑ اور ان کے بیٹوں کی تھی۔ خیر جو تم کہہ رہے ہو اللہ تعالٰی میری مدد کرنے والا ہے۔

4. باب قَوْلِهِ ‏{‏وَرَاوَدَتْهُ الَّتِي هُوَ فِي بَيْتِهَا عَنْ نَفْسِهِ وَغَلَّقَتِ الأَبْوَابَ وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ‏}

وَقَالَ عِكْرِمَةُ هَيْتَ لَكَ بِالْحَوْرَانِيَّةِ هَلُمَّ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ جُبَيْرٍ تَعَالَهْ‏.‏

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ هَيْتَ لَكَ قَالَ وَإِنَّمَا نَقْرَؤُهَا كَمَا عُلِّمْنَاهَا ‏{‏مَثْوَاهُ‏}‏ مُقَامُهُ ‏{‏أَلْفَيَا‏}‏ وَجَدَا ‏{‏أَلْفَوْا آبَاءَهُمْ‏}‏ ‏{‏أَلْفَيْنَا‏}‏ وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ‏{‏بَلْ عَجِبْتَ وَيَسْخَرُونَ‏}‏

Narrated By Abu Wail : 'Abdullah bin Mas'ud recited "Haita laka (Come you)," and added, "We recite it as we were taught it."

ہم سے احمد بن سعید دارمی نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن عمر نے، کہا ہم سے شعبہ نے، انہوں نے سلیمان اعمش سے، انہوں نے ابو وائل سے انہوں نے عبداللہ بن مسعودؓ سے، انہوں ھَیتَ لَکَ (بفتحہ ھا) پڑھا ہے۔ بعضوں نے ھِیتَ لَکَ (بکسر ھا) پڑھا ہے۔ اور کہنے لگے جیسا ہم کو سکھای گیا ہے ویسا ہی ہم پڑھتے ہیں۔ مثواہ کا معنی ان کا ٹھکا نا، درجہ۔ اَلفَیَا پایا۔ اسی سے ہے اَلفَوا اٰبَاءَھُم اور اَلفَینَا جو دوسری آیتوں میں ہیں ابن مسعودؓ سے سورۃ صافات ہیں بَل عَجِبتُ وَ یَسخرُونَ منقول ہے۔


حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ قُرَيْشًا لَمَّا أَبْطَئُوا عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِالإِسْلاَمِ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ اكْفِنِيهِمْ بِسَبْعٍ كَسَبْعِ يُوسُفَ ‏"‏ فَأَصَابَتْهُمْ سَنَةٌ حَصَّتْ كُلَّ شَىْءٍ حَتَّى أَكَلُوا الْعِظَامَ حَتَّى جَعَلَ الرَّجُلُ يَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ فَيَرَى بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا مِثْلَ الدُّخَانِ قَالَ اللَّهُ ‏{‏فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ‏}‏ قَالَ اللَّهُ ‏{‏إِنَّا كَاشِفُو الْعَذَابِ قَلِيلاً إِنَّكُمْ عَائِدُونَ‏}‏ أَفَيُكْشَفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَقَدْ مَضَى الدُّخَانُ وَمَضَتِ الْبَطْشَةُ‏.‏

Narrated By Abdullah (bin Mas'ud) : When the Prophet realized that the Quraish had delayed in embracing Islam, he said, "O Allah! Protect me against their evil by afflicting them with seven (years of famine) like the seven years of (Prophet) Joseph." So they were struck with a year of famine that destroyed everything till they had to eat bones, and till a man would look towards the sky and see something like smoke between him and it. Allah said: "Then watch you (O Muhammad) for the day when the sky will produce a kind of smoke plainly visible." (44.10) And Allah further said: "Verily! We shall withdraw the punishment a little, Verily you will return (to disbelief)." (44.15) (Will Allah relieve them from torture on the Day of Resurrection?) (The punishment of) the smoke had passed and Al-Baltsha (the destruction of the pagans in the Badr battle) had passed too.

ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، انہوں نے اعمش سے، انہوں نے مسلم بن صبیح سے، انہوں نے مسروق سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعودؓ سے، انہوں نے کہا جب قریش نے (نبی ﷺ کا کہا نہ مانا) اسلام لانے میں دیر کی تو آپؐ نے ان کے حق میں بددعا کی۔ فرمایا یا اللہ! سات برس کا قحط جیسے یوسفؑ کے زمانے میں سات برس تک قحط پڑا تھا ان پر بھیج کو مجھ کو بچا۔ پھر (اس بددعا کا یہ اثر ہوا) ان پر ایسا قحط پڑا جس سے ہر چیز ملیا میٹ ہو گئی۔ اخیر میں ہڈیاں (مردے) تک کھا گئے۔ کوئی آدمی ان کا آسمان دیکھتا تو دھوئیں کی طرح معلوم ہوتا (بھوک کے مارے ناتوانی سے ایسا نظر آتا) اللہ نے (سورہ ادحان میں) فرمایا " سو تو راہ دیکھ جس دن کے لائے آسمان صریح دھواں" اور فرمایا "ہم کھولتے ہیں عذاب تھوڑے دنوں تم پھر وہی کرتے ہو" (تو عذاب سے یہی قحط کا عذاب مرادہے) کیونکہ آخرت کا عذاب تو کافروں سے ٹلنے والا نہیں حاصل یہ کہ دخان اور بطشہ (جن کا ذکر سورۃ دخان میں ہے )گزر چکا ہے۔

5. باب قَوْلِهِ ‏{‏فَلَمَّا جَاءَهُ الرَّسُولُ قَالَ ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللاَّتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ إِنَّ رَبِّي بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌ * قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ إِذْ رَاوَدْتُنَّ يُوسُفَ عَنْ نَفْسِهِ قُلْنَ حَاشَى لِلَّهِ‏}‏

وَحَاشَ وَحَاشَى تَنْزِيهٌ وَاسْتِثْنَاءٌ ‏{‏حَصْحَصَ‏}‏ وَضَحَ‏.

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ تَلِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي، سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا، لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ يُوسُفُ لأَجَبْتُ الدَّاعِيَ، وَنَحْنُ أَحَقُّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ إِذْ قَالَ لَهُ ‏{‏أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي‏}‏‏"‏

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "May Allah bestow His Mercy on (Prophet) Lot. (When his nation troubled him) he wished if he could betake himself to some powerful support; and if I were to remain in prison for the period Joseph had remained, I would surely respond to the call; and we shall have more right (to be in doubt) than Abraham: When Allah said to him, "Don't you believe?' Abraham said, 'Yes, (I do believe) but to be stronger in faith; (2.260)

ہم سے سعید بن تلید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے، انہوں نے بکر بن مضر سے، انہوں نے عمرو بن حارث سے، انہوں نے یونس بن یزید سے، انہوں نے ابن شھاب سے، انہوں نے سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن سے، انہوں نے ابو ہریرہؓ سے، انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالٰی لوطؑ پیغمبر پر رحم کرےوہ ایک زبردست سہارے کا آسرا ڈھونڈتے تھے میں تو اگر یوسفؑ کی طرح برسوں (سات برس تک) قید خانے میں رہتا تو بلانے والے کے ساتھ (فورا) چلا جاتا۔ اور ہم کو تو یہ نسبت ابراہیمؑ کے (شک ہونا) زیادہ سزاوار ہے۔ جب اللہ تعالٰی نے ان سے فرمایا کہ تجھ کو یقین نہیں۔ تو انہوں نے کہا کیوں نہیں یقین تو ہے پر میں چاہتا ہوں اور اطمینان ہو جائے۔

6. باب قَوْلِهِ ‏{‏حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ‏}‏

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ لَهُ وَهُوَ يَسْأَلُهَا عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ‏}‏ قَالَ قُلْتُ أَكُذِبُوا أَمْ كُذِّبُوا قَالَتْ عَائِشَةُ كُذِّبُوا‏.‏ قُلْتُ فَقَدِ اسْتَيْقَنُوا أَنَّ قَوْمَهُمْ كَذَّبُوهُمْ فَمَا هُوَ بِالظَّنِّ قَالَتْ أَجَلْ لَعَمْرِي لَقَدِ اسْتَيْقَنُوا بِذَلِكَ‏.‏ فَقُلْتُ لَهَا وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا قَالَتْ مَعَاذَ اللَّهِ لَمْ تَكُنِ الرُّسُلُ تَظُنُّ ذَلِكَ بِرَبِّهَا‏.‏ قُلْتُ فَمَا هَذِهِ الآيَةُ‏.‏ قَالَتْ هُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ الَّذِينَ آمَنُوا بِرَبِّهِمْ وَصَدَّقُوهُمْ، فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْبَلاَءُ، وَاسْتَأْخَرَ عَنْهُمُ النَّصْرُ حَتَّى اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ مِمَّنْ كَذَّبَهُمْ مِنْ قَوْمِهِمْ وَظَنَّتِ الرُّسُلُ أَنَّ أَتْبَاعَهُمْ قَدْ كَذَّبُوهُمْ جَاءَهُمْ نَصْرُ اللَّهِ عِنْدَ ذَلِكَ‏.‏

Narrated By 'Urwa bin Az-Zubair : That when he asked 'Aisha about the statement of Allah "Until when the Apostles gave up hope (of their people)." (12.110) she told him (its meaning), 'Urwa added, "I said, 'Did they (Apostles) suspect that they were betrayed (by Allah) or that they were treated as liars by (their people)?' 'Aisha said, '(They suspected) that they were treated as liars by (their people),' I said, 'But they were sure that their people treated them as liars and it was not a matter of suspicion.' She said, 'Yes, upon my life they were sure about it.' I said to her. 'So they (Apostles) suspected that they were betrayed (by Allah).' She said, "Allah forbid! The Apostles never suspected their Lord of such a thing.' I said, 'What about this Verse then?' She said, 'It is about the Apostles' followers who believed in their Lord and trusted their Apostles, but the period of trials was prolonged and victory was delayed till the Apostles gave up all hope of converting those of the people who disbelieved them and the Apostles thought that their followers treated them as liars; thereupon Allah's help came to them.

ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے، انہوں نے صالح بن کیسان سے، انہوں نے ابن شھاب سے، کہا مجھ مجھ کو عروہ بن زبیر نے خبر دی، انہوں نے عائشہؓ سے پوچھا یہ جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے " یہاں تک کہ جب ناامید ہونے لگے رسول اور اور خیال کرنے لگے کہ ان سے جھوٹ کہا گیا تھا" تو یہ کُذِبُوا ہے یا کُذِّبُوا (تشدید ذال سے) ہے۔ عائشہؓ نے کہا کُذِّبُوا (تشدید ذال سے) ہے میں نے کہا۔ اس صورت میں تو مطلب نہ بنے گا کیونکہ پیغبروں کو تو یقین تھا کہ ان کی قوم والوں نے ان کو جھٹلایا پھر ظَنُّوا سے کیا مراد ہے۔ انہوں نے کہا اپنی زندگی کی قسم بیشک پیغمبروں کو اس کا یقین تھا۔ میں نے کہا وَظَنُّوا اَنَّھُم قَد کُذِبُوا تحفیف ذال کے ساتھ پڑھیں تو کیا قباحت ہے۔ انہوں نے کہا معاذ اللہ! پیغمبر کہیں اپنے پروردگار کی نسبت ایسا گمان کر سکتے ہیں۔ میں نے کہا اچھا اس آیت کا مطلب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مطلب یہ ہے کہ پیغمبروں کو جن لوگوں نے مانا ، ان کی تصدیق کی جب ان پر ایک مدت دراز تک آفت اور مصیبت آتی رہی اور اللہ کی مدد آنے میں دیر ہوئی اور پیغمبر ان کے ایمان لانے سے نا امید ہو گئے جنہوں نے ان کو جھٹلایا تھا۔ اور یہ گمان کرنے لگے کہ جو لوگ ایمان لائے ہیں اب وہ بھی ہم کو جھوٹا سمجھنے لگیں گے اس وقت اللہ کی مدد آن پہنچی۔


حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، فَقُلْتُ لَعَلَّهَا ‏{‏كُذِبُوا‏}‏ مُخَفَّفَةً‏.‏ قَالَتْ مَعَاذَ اللَّهِ‏.‏

Narrated By 'Urwa : "I told her ('Aisha): (Regarding the above narration), they (Apostles) were betrayed (by Allah)." She said: Allah forbid or said similarly.

ہم سے ابو الیمان حکم بن نافع نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب بن ابی حمزہ نے خبر دی، انہوں نے زہری سے، انہوں نے کہا کہ مجھ کو عروہ بن زبیر نے کہا میں نے عائشہؓ سے پوچھا شاید اس آیت میں حَتّٰی اِذَا استَیاَسَ الرُّسُلُ میں کُذِبُوا ہے (بہ تخفیف ذال) انہوں نے کہا معاذاللہ پھر وہی حدیث بیان کیا جو اوپر گزری۔