- احادیثِ نبوی ﷺ

 

123Last ›

1. باب كَيْفَ فُرِضَتِ الصَّلاَةُ فِي الإِسْرَاءِ

وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ حَدَّثَنِي أَبُو سُفْيَانَ فِي حَدِيثِ هِرَقْلَ فَقَالَ يَأْمُرُنَا ـ يَعْنِي النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم بِالصَّلاَةِ وَالصِّدْقِ وَالْعَفَافِ

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ أَبُو ذَرٍّ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ فُرِجَ عَنْ سَقْفِ بَيْتِي وَأَنَا بِمَكَّةَ، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ فَفَرَجَ صَدْرِي، ثُمَّ غَسَلَهُ بِمَاءِ زَمْزَمَ، ثُمَّ جَاءَ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مُمْتَلِئٍ حِكْمَةً وَإِيمَانًا، فَأَفْرَغَهُ فِي صَدْرِي ثُمَّ أَطْبَقَهُ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَعَرَجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَلَمَّا جِئْتُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا قَالَ جِبْرِيلُ لِخَازِنِ السَّمَاءِ افْتَحْ‏.‏ قَالَ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا جِبْرِيلُ‏.‏ قَالَ هَلْ مَعَكَ أَحَدٌ قَالَ نَعَمْ مَعِي مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم‏.‏ فَقَالَ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ نَعَمْ‏.‏ فَلَمَّا فَتَحَ عَلَوْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا، فَإِذَا رَجُلٌ قَاعِدٌ عَلَى يَمِينِهِ أَسْوِدَةٌ وَعَلَى يَسَارِهِ أَسْوِدَةٌ، إِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ ضَحِكَ، وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَسَارِهِ بَكَى، فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالاِبْنِ الصَّالِحِ‏.‏ قُلْتُ لِجِبْرِيلَ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا آدَمُ‏.‏ وَهَذِهِ الأَسْوِدَةُ عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ نَسَمُ بَنِيهِ، فَأَهْلُ الْيَمِينِ مِنْهُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ، وَالأَسْوِدَةُ الَّتِي عَنْ شِمَالِهِ أَهْلُ النَّارِ، فَإِذَا نَظَرَ عَنْ يَمِينِهِ ضَحِكَ، وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِهِ بَكَى، حَتَّى عَرَجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ فَقَالَ لِخَازِنِهَا افْتَحْ‏.‏ فَقَالَ لَهُ خَازِنُهَا مِثْلَ مَا قَالَ الأَوَّلُ فَفَتَحَ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَنَسٌ فَذَكَرَ أَنَّهُ وَجَدَ فِي السَّمَوَاتِ آدَمَ وَإِدْرِيسَ وَمُوسَى وَعِيسَى وَإِبْرَاهِيمَ ـ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ ـ وَلَمْ يُثْبِتْ كَيْفَ مَنَازِلُهُمْ، غَيْرَ أَنَّهُ ذَكَرَ أَنَّهُ وَجَدَ آدَمَ فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا، وَإِبْرَاهِيمَ فِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ‏.‏ قَالَ أَنَسٌ فَلَمَّا مَرَّ جِبْرِيلُ بِالنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِإِدْرِيسَ قَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالأَخِ الصَّالِحِ‏.‏ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا إِدْرِيسُ‏.‏ ثُمَّ مَرَرْتُ بِمُوسَى فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالأَخِ الصَّالِحِ‏.‏ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا مُوسَى‏.‏ ثُمَّ مَرَرْتُ بِعِيسَى فَقَالَ مَرْحَبًا بِالأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ‏.‏ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا عِيسَى‏.‏ ثُمَّ مَرَرْتُ بِإِبْرَاهِيمَ فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالاِبْنِ الصَّالِحِ‏.‏ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا إِبْرَاهِيمُ صلى الله عليه وسلم ‏"‏‏.‏ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي ابْنُ حَزْمٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ وَأَبَا حَبَّةَ الأَنْصَارِيَّ كَانَا يَقُولاَنِ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ ثُمَّ عُرِجَ بِي حَتَّى ظَهَرْتُ لِمُسْتَوًى أَسْمَعُ فِيهِ صَرِيفَ الأَقْلاَمِ ‏"‏‏.‏ قَالَ ابْنُ حَزْمٍ وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَفَرَضَ اللَّهُ عَلَى أُمَّتِي خَمْسِينَ صَلاَةً، فَرَجَعْتُ بِذَلِكَ حَتَّى مَرَرْتُ عَلَى مُوسَى فَقَالَ مَا فَرَضَ اللَّهُ لَكَ عَلَى أُمَّتِكَ قُلْتُ فَرَضَ خَمْسِينَ صَلاَةً‏.‏ قَالَ فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ، فَإِنَّ أُمَّتَكَ لاَ تُطِيقُ ذَلِكَ‏.‏ فَرَاجَعْتُ فَوَضَعَ شَطْرَهَا، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى قُلْتُ وَضَعَ شَطْرَهَا‏.‏ فَقَالَ رَاجِعْ رَبَّكَ، فَإِنَّ أُمَّتَكَ لاَ تُطِيقُ، فَرَاجَعْتُ فَوَضَعَ شَطْرَهَا، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ، فَإِنَّ أُمَّتَكَ لاَ تُطِيقُ ذَلِكَ، فَرَاجَعْتُهُ‏.‏ فَقَالَ هِيَ خَمْسٌ وَهْىَ خَمْسُونَ، لاَ يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَىَّ‏.‏ فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقَالَ رَاجِعْ رَبَّكَ‏.‏ فَقُلْتُ اسْتَحْيَيْتُ مِنْ رَبِّي‏.‏ ثُمَّ انْطَلَقَ بِي حَتَّى انْتَهَى بِي إِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى، وَغَشِيَهَا أَلْوَانٌ لاَ أَدْرِي مَا هِيَ، ثُمَّ أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ، فَإِذَا فِيهَا حَبَايِلُ اللُّؤْلُؤِ، وَإِذَا تُرَابُهَا الْمِسْكُ ‏"

Narrated By Abu Dhar : Allah's Apostle said, "While I was at Mecca the roof of my house was opened and Gabriel descended, opened my chest, and washed it with Zam-zam water. Then he brought a golden tray full of wisdom and faith and having poured its contents into my chest, he closed it. Then he took my hand and ascended with me to the nearest heaven, when I reached the nearest heaven, Gabriel said to the gatekeeper of the heaven, 'Open (the gate).' The gatekeeper asked, 'Who is it?' Gabriel answered: 'Gabriel.' He asked, 'Is there anyone with you?' Gabriel replied, 'Yes, Muhammad I is with me.' He asked, 'Has he been called?' Gabriel said, 'Yes.' So the gate was opened and we went over the nearest heaven and there we saw a man sitting with some people on his right and some on his left. When he looked towards his right, he laughed and when he looked toward his left he wept. Then he said, 'Welcome! O pious Prophet and pious son.' I asked Gabriel, 'Who is he?' He replied, 'He is Adam and the people on his right and left are the souls of his offspring. Those on his right are the people of Paradise and those on his left are the people of Hell and when he looks towards his right he laughs and when he looks towards his left he weeps.' Then he ascended with me till he reached the second heaven and he (Gabriel) said to its gatekeeper, 'Open (the gate).' The gatekeeper said to him the same as the gatekeeper of the first heaven had said and he opened the gate. Anas said: "Abu Dhar added that the Prophet met Adam, Idris, Moses, Jesus and Abraham, he (Abu Dhar) did not mention on which heaven they were but he mentioned that he (the Prophet) met Adarn on the nearest heaven and Abraham on the sixth heaven. Anas said, "When Gabriel along with the Prophet passed by Idris, the latter said, 'Welcome! O pious Prophet and pious brother.' The Prophet asked, 'Who is he?' Gabriel replied, 'He is Idris." The Prophet added, "I passed by Moses and he said, 'Welcome! O pious Prophet and pious brother.' I asked Gabriel, 'Who is he?' Gabriel replied, 'He is Moses.' Then I passed by Jesus and he said, 'Welcome! O pious brother and pious Prophet.' I asked, 'Who is he?' Gabriel replied, 'He is Jesus. Then I passed by Abraham and he said, 'Welcome! O pious Prophet and pious son.' I asked Gabriel, 'Who is he?' Gabriel replied, 'He is Abraham. The Prophet added, 'Then Gabriel ascended with me to a place where I heard the creaking of the pens." Ibn Hazm and Anas bin Malik said: The Prophet said, "Then Allah enjoined fifty prayers on my followers when I returned with this order of Allah, I passed by Moses who asked me, 'What has Allah enjoined on your followers?' I replied, 'He has enjoined fifty prayers on them.' Moses said, 'Go back to your Lord (and appeal for reduction) for your followers will not be able to bear it.' (So I went back to Allah and requested for reduction) and He reduced it to half. When I passed by Moses again and informed him about it, he said, 'Go back to your Lord as your followers will not be able to bear it.' So I returned to Allah and requested for further reduction and half of it was reduced. I again passed by Moses and he said to me: 'Return to your Lord, for your followers will not be able to bear it. So I returned to Allah and He said, 'These are five prayers and they are all (equal to) fifty (in reward) for My Word does not change.' I returned to Moses and he told me to go back once again. I replied, 'Now I feel shy of asking my Lord again.' Then Gabriel took me till we '' reached Sidrat-il-Muntaha (Lote tree of; the utmost boundary) which was shrouded in colours, indescribable. Then I was admitted into Paradise where I found small (tents or) walls (made) of pearls and its earth was of musk."

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا: حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ حدیث بیان کرتے تھے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: میرے گھر کی چھت کھولی گئی اور میں مکہ میں تھا پھر جبریل علیہ السلام اترے انہوں نے میرا سینہ چیرا پھر اس کو زم زم کے پانی سے دھویا پھر ایک سونے کا طشت لائے جو ایمان اور حکمت سے بھرا ہوا تھا وہ میرے سینے میں ڈال دیا پھر سینہ جوڑ دیا (اس پر مہر کردی) پھر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور میرے ساتھ آسمان دنیا کی طرف چڑھے جب میں آسمان دنیا پر پہنچا (وہ بند تھا) جبریل علیہ السلام نے آسمان کے داروغہ سے کہا: کھول اس نے پوچھا کون ہے؟ جواب ملا جبریل علیہ السلام اس نے پوچھا تمہارے ساتھ اور کوئی ہے جبریل علیہ السلام نے کہا: ہاں محمدﷺ میرے ساتھ ہیں، اس نے پوچھا: کیا وہ بلائے گئے ہیں جبریل علیہ السلام نے کہا: ہاں، خیر جب اس نے دروازہ کھولا تو ہم آسمان دنیا پر چڑھے وہاں ایک شخص بیٹھا دیکھا جس کے داہنے طرف لوگوں کے جھنڈ تھے اور بائیں طرف بھی جھنڈ تھے جب وہ اپنی داہنی طرف دیکھتا تو ہنستا اور جب بائیں طرف دیکھتا تو روتا، اس نے (مجھ کو دیکھ کر) کہا: آؤ اچھے آئے ہو نیک نبی اور نیک بیٹے، میں نے جبریل علیہ السلام سے کہا یہ کون ہیں انہوں نے کہا: یہ آدم علیہ السلام ہیں اور یہ جو ان کے داہنے اور بائیں طرف تم لوگوں کے جھنڈ دیکھتے ہو، یہ ان کے بیٹو ں کی ارواح ہیں تو ان کے داہنی طرف والے بہشتی ہیں اور بائیں طرف کےجھنڈ دوزخی ہیں وہ جب اپنے داہنی طرف دیکھتے ہیں (خوشی سے) ہنس دیتے ہیں اور جب بائیں طرف دیکھتے ہیں(رنج سے) رو دیتے ہیں پھر جبریل علیہ السلام مجھ کو لے کر دوسرے آسمان کی طرف چڑھے وہاں کے داروغہ سے کہا: کھول اس نے بھی وہی پوچھا جو پہلے داروغہ نے پوچھا تھا آخر دروازہ کھولا، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ابو ذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: کہ نبیﷺ نے آسمانوں میں آدم علیہ السلام اور ادریس اور موسیٰ اور عیسیٰ اور ابراہیم علیہم السلام پیغمبروں کو دیکھا مگر ہر ایک کا ٹھکانہ نہیں بیان کیا اتنا کہا: آپﷺ نے پہلے آسمان پر آدم علیہ السلام کو پایا اور چھٹے پر ابراہیم علیہ السلام کو،حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: جب جبریل علیہ السلام نبیﷺ کو لیے ہوئے ادریس علیہ السلام پیغمبر پر گزرے تو انہوں نے کہا آؤ اچھے آئے ہو، نیک نبی اور نیک بھائی، میں نے (جبریل علیہ السلام سے) پوچھا یہ کون ہیں انہوں نے کہا: یہ ادریس علیہ السلام ہیں پھر میں موسی علیہ السلام پر سےگزرا، انہوں نے کہا: آؤ اچھے آئے ہو نیک نبی اور نیک بھائی، میں نے پوچھا یہ کون ہیں جبریل نے کہا: یہ موسیٰ علیہ السلام ہیں پھر میں عیسی علیہ السلام پر سے گزرا انہوں نے کہا: آؤ اچھے آئے ہو نیک نبی اور نیک بھائی، میں نے جبریل علیہ السلام سے پوچھا یہ کون ہیں انہوں نے کہا: یہ عیسیٰ ہیں پھر میں ابراہیم علیہ السلام پر سے گزرا، انہوں نے کہا آؤ اچھے آئے ہو نیک نبی اور نیک بیٹے، میں نے جبریل سے پوچھا یہ کون ہیں انہوں نے کہا: یہ ابراہیم علیہ السلام ہیں ۔ابن شہاب نے کہا مجھ کو ابو بکر بن حزم نے خبر دی کہ عبد اللہ بن عباس اور ابو حبہ عامر بن عمر دونوں یوں کہتے تھے کہ نبیﷺ نے فرمایا: پھر جبریل علیہ السلام مجھ کو لے کر چڑھے یہاں تک کہ میں ایک بلند ہموار مقام پر پہنچا وہاں میں قلم چلنے کی آواز سنتا تھا۔ پھر ابن حزم اور انس بن مالک نے کہا: نبیﷺ نے فرمایا: پھراللہ تعالیٰ نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں (ہر رات دن میں) میں یہ حکم لے کر لوٹا جب موسیٰ پر پہنچا تو انہوں نے پوچھا اللہ نے تمہاری امت پر کیا فرض کیا میں نے کہا: پچاس نمازیں فرض کیں انہوں نے کہا پھر اپنے رب کے پاس لوٹ جا کیونکہ تیری امت اتنی طاقت نہیں رکھتی میں لوٹا (اور عرض کیا) اللہ نے کچھ نمازیں معاف کردیں پھرموسی علیہ السلام کے پاس آیا اور یہ کہا کہ کچھ نمازیں معاف کردیں انہوں نے کہا: اپنے رب کے پاس جا تیری امت اتنی طاقت نہیں رکھتی میں لوٹا پھر اللہ نے کچھ معاف کردیں پھر میں موسی علیہ السلام کے پاس آیا انہوں نے کہا: اپنے رب کے پاس لوٹ جا تمہاری امت اتنی طاقت نہیں رکھتی پھر میں لوٹا (ایسا کئی بار ہوا ) آخر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وہ پانچ نمازیں ہیں اور حقیقت میں پچاس ہیں میرے پاس بات نہیں بدلتی پھر موسی علیہ السلام کے پاس آیا انہوں نے کہا اپنے رب کے پاس لوٹ جا میں نے کہا اب مجھے اپنے رب سے (عرض کرنے میں ) شرم آتی ہے پھر جبریل علیہ السلام مجھ کو لے کر چلےیہاں تک کہ سدرۃ المنتہیٰ تک مجھ کو پہنچایا اور کئی طرح کے رنگوں نے اس کو ڈھانک لیا تھا، میں نہیں جانتا وہ کیا تھے پھر مجھ کو جنت میں لےگئے، کیا دیکھتا ہوں وہاں موتیوں کے ہار ہیں اور وہاں کی مٹی کستوری ہے۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ ‏"‏ فَرَضَ اللَّهُ الصَّلاَةَ حِينَ فَرَضَهَا رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ، فَأُقِرَّتْ صَلاَةُ السَّفَرِ، وَزِيدَ فِي صَلاَةِ الْحَضَرِ ‏"

Narrated By 'Aisha : The mother of believers: Allah enjoined the prayer when He enjoined it, it was two Rakat only (in every prayer) both when in residence or on journey. Then the prayers offered on journey remained the same, but (the Rakat of) the prayers for non-travellers were increased.

حضرت عائشہ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا سے مروی ہے وہ فرماتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جب (شب معراج میں) نماز فرض کی تو (ہر نمازکی) دو دو رکعتیں حضر اور سفر میں فرض کیں، پھر سفر کی نماز تو اپنے حال پر دو دو رکعتیں رہیں اور حضر کی نماز بڑ ھا دی گئی ۔

2. باب وُجُوبِ الصَّلاَةِ فِي الثِّيَابِ

وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ‏}‏‏.‏ وَمَنْ صَلَّى مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، وَيُذْكَرُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ يَزُرُّهُ وَلَوْ بِشَوْكَةٍ ‏"‏‏.‏ فِي إِسْنَادِهِ نَظَرٌ، وَمَنْ صَلَّى فِي الثَّوْبِ الَّذِي يُجَامِعُ فِيهِ مَا لَمْ يَرَ أَذًى، وَأَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ لاَ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ‏

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ أُمِرْنَا أَنْ نُخْرِجَ، الْحُيَّضَ يَوْمَ الْعِيدَيْنِ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ، فَيَشْهَدْنَ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَدَعْوَتَهُمْ، وَيَعْتَزِلُ الْحُيَّضُ عَنْ مُصَلاَّهُنَّ‏.‏ قَالَتِ امْرَأَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِحْدَانَا لَيْسَ لَهَا جِلْبَابٌ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لِتُلْبِسْهَا صَاحِبَتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا ‏" ، وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، حَدَّثَتْنَا أُمُّ عَطِيَّةَ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا

Narrated By Um 'Atiya : We were ordered to bring out our menstruating women and veiled women in the religious gatherings and invocation of Muslims on the two 'Id festivals. These menstruating women were to keep away from their Musalla. A woman asked, "O Allah's Apostle ' What about one who does not have a veil?" He said, "Let her share the veil of her companion."

حضرت ام عطیہ سے مروی ہے وہ فرماتی ہیں کہ دونوں عیدوں میں حیض والی اور پردے والی عورتوں کو نکالنے کا وہ مسلمانوں کے اجتماع میں اور ان کی دعا میں شریک رہیں اور حیض والی عورتیں نماز کی جگہ سے الگ رہیں ایک عورت نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ بعض عورتوں کے پاس چادر نہیں ہوتی (وہ کیسے نکلے) آپﷺ نے فرمایا: اس کی ساتھی عورت اپنی چادر اس کو اڑھا دے۔ اور عبداللہ بن رجاء نے کہا ہم سے عمران قطان نے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن سیرین نے کہا ہم سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے میں نے نبیﷺ سے سنا اور یہی حد یث بیان کی۔

3. باب عَقْدِ الإِزَارِ عَلَى الْقَفَا فِي الصَّلاَةِ

وَقَالَ أَبُو حَازِمٍ عَنْ سَهْلٍ صَلَّوْا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَاقِدِي أُزْرِهِمْ عَلَى عَوَاتِقِهِمْ‏

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي وَاقِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ صَلَّى جَابِرٌ فِي إِزَارٍ قَدْ عَقَدَهُ مِنْ قِبَلِ قَفَاهُ، وَثِيَابُهُ مَوْضُوعَةٌ عَلَى الْمِشْجَبِ قَالَ لَهُ قَائِلٌ تُصَلِّي فِي إِزَارٍ وَاحِدٍ فَقَالَ إِنَّمَا صَنَعْتُ ذَلِكَ لِيَرَانِي أَحْمَقُ مِثْلُكَ، وَأَيُّنَا كَانَ لَهُ ثَوْبَانِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم

Narrated By Muhammad bin Al-Munkadir : Once Jabir prayed with his Izar tied to his back while his clothes were Lying beside him on a wooden peg. Somebody asked him, "Do you offer your prayer in a single Izar?" He replied, "I did so to show it to a fool like you. Had anyone of us two garments in the life-time of the Prophet?"

محمد بن منکدر سے مروی ہے انہوں نے کہا: حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے ایک تہہ بند میں نماز پڑھی جس کو اپنی گدی پر باندھ لیا تھا اور آپ کے کپڑے کھونٹی پر لٹکے ہوئے تھے ،ایک کہنے والے(عبادہ بن ولید) نے اُن سے کہا: تم ایک تہہ بند میں نماز پڑھتے ہو، انہوں نے کہا: میں نے یہ اس لیے کیا کہ تجھ جیسا بے وقوف مجھ کو دیکھے اور نبیﷺ کے زمانے میں ہم لوگوں میں کس کے پاس دو کپڑےتھے؟


حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ أَبُو مُصْعَبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ رَأَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَقَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ‏

Narrated By Muhammad bin Al Munkadir : I saw Jabir bin 'Abdullah praying in a single garment and he said that he had seen the Prophet praying in a single garment.

محمد بن منکدر سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کو ایک کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا اور جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے نبیﷺ کو ایک کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا تھا۔

4. باب الصَّلاَةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ مُلْتَحِفًا بِهِ

قَالَ الزُّهْرِيُّ فِي حَدِيثِهِ الْمُلْتَحِفُ الْمُتَوَشِّحُ، وَهْوَ الْمُخَالِفُ بَيْنَ طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقَيْهِ، وَهْوَ الاِشْتِمَالُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ‏.‏ قَالَ وَقَالَتْ أُمُّ هَانِئٍ الْتَحَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِثَوْبٍ، وَخَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقَيْهِ‏

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ‏

Narrated By 'Umar bin Abi Salama : The Prophet prayed in one garment and crossed its ends.

حضرت عمر بن ابی سلمہ سے کہ نبیﷺنے ایک کپڑے میں نماز پڑھی اس کے دونوں کناروں کو مخالف طرف کے کندھے پر ڈال دیا۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، قَدْ أَلْقَى طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقَيْهِ

Narrated By 'Umar bin Abi Salama : I saw the Prophet offering prayers in a single garment in the house of Um-Salama and he had crossed its ends around his shoulders.

عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے نبیﷺ کو دیکھا آپ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ایک کپڑے میں نماز پڑھتے اس کے دونوں کناروں کو آپ نے اپنے دونوں کندھوں پر ڈال لیا تھا۔


حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ، أَخْبَرَهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُشْتَمِلاً بِهِ فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، وَاضِعًا طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقَيْهِ‏

Narrated By 'Umar bin Abi Salama : In the house of Um-Salama I saw Allah's Apostle offering prayers, wrapped in a single garment around his body with its ends crossed round his shoulders.

حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا آپ ایک کپڑے کو لپیٹے ہوئے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں نماز پڑھ رہے تھے دونوں کنارے آپﷺ نے کندھوں پر ڈال لیے تھے۔


حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّ أَبَا مُرَّةَ، مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ، تَقُولُ ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ الْفَتْحِ، فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ، وَفَاطِمَةُ ابْنَتُهُ تَسْتُرُهُ قَالَتْ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ ‏"‏ مَنْ هَذِهِ ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ أَنَا أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ مَرْحَبًا بِأُمِّ هَانِئٍ ‏"‏‏.‏ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ، قَامَ فَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، زَعَمَ ابْنُ أُمِّي أَنَّهُ قَاتِلٌ رَجُلاً قَدْ أَجَرْتُهُ فُلاَنَ بْنَ هُبَيْرَةَ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِئٍ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ أُمُّ هَانِئٍ وَذَاكَ ضُحًى‏

Narrated By Abu Murra : (The freed slave of Um Hani) Um Hani, the daughter of Abi Talib said, "I went to Allah's Apostle in the year of the conquest of Mecca and found him taking a bath and his daughter Fatima was screening him. I greeted him. He asked, 'Who is she?' I replied, 'I am Um Hani bint Abi Talib.' He said, 'Welcome! O Um Hani.' When he finished his bath he stood up and prayed eight Rak at while wearing a single garment wrapped round his body and when he finished I said, 'O Allah's Apostle ! My brother has told me that he will kill a person whom I gave shelter and that person is so and so the son of Hubaira.' The Prophet said, 'We shelter the person whom you have sheltered.' " Um Ham added, "And that was before noon (Duha)."

امّ ہانی بنتِ ابی طالب رضی اللہ عنہاکہتی تھیں میں رسول اللہﷺکے پاس گئی جس سال مکہ فتح ہوا میں نے دیکھا آپﷺ نہا رہے ہیں اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آپﷺ کی صاحبزادی آپ پر پردہ کیے ہوئے ہیں، میں نے آپﷺ کو سلام کیا، آپﷺ نے فرمایا: کون ہے میں نے کہا: میں ام ہانی ہوں، ابو طالب کی بیٹی، آپﷺ نے فرمایا: مرحبا ام ہانی۔ جب آپﷺ نہانے سے فارغ ہو ئے تو (نماز میں)کھڑے ہوئے،آٹھ رکعتیں پڑھیں ایک ہی کپڑے میں اس کو لپیٹے ہوئے جب نماز پڑھ چکے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ میری ماں کے بیٹے (یعنی حضرت علی) کہتےہیں وہ ہبیرہ (میرے خاوند)کے فلاں بیٹے کو مار ڈالیں گے جس کو میں نے پناہ دی ہے رسول اللہﷺنے فرمایا: اے ام ہانی! جس کو تو نے پناہ دی ہم نے بھی اس کو پناہ دی، ام ہانی نے کہا: یہ چاشت کا وقت تھا۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ سَائِلاً، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الصَّلاَةِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَوَلِكُلِّكُمْ ثَوْبَانِ ‏"

Narrated By Abu Huraira : A person asked Allah's Apostle about the offering of the prayer in a single garment. Allah's Apostle replied, "Has every one of you got two garments?"

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک سائل نے رسول اللہﷺ سے پوچھا: ایک کپڑے میں نماز پڑھنا کیسا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: بھلا کیا تم میں ہرشخص کے پاس دو کپڑے ہیں؟

5. باب إِذَا صَلَّى فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ فَلْيَجْعَلْ عَلَى عَاتِقَيْهِ

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ يُصَلِّي أَحَدُكُمْ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، لَيْسَ عَلَى عَاتِقَيْهِ شَىْءٌ ‏"

Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "None of you should offer prayer in a single garment that does not cover the shoulders."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ انہوں نے کہا: نبیﷺ نے فرمایا: کوئی تم میں سے ایک کپڑے میں نماز نہ پڑھے اس طرح کہ اس کے کندھے پر کچھ نہ ہو۔


حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ سَمِعْتُهُ ـ أَوْ، كُنْتُ سَأَلْتُهُ ـ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ مَنْ صَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، فَلْيُخَالِفْ بَيْنَ طَرَفَيْهِ ‏"

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "Whoever prays in a single garment must cross its ends (over the shoulders)."

عکرمہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا آپ فرمارہا تھے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا آپﷺ فرماتے تھے جو کوئی ایک کپڑے میں نماز پڑھے وہ اس کے دونوں کناروں کے مخالف سمت کے کندھے پر ڈال دیں۔

6. باب إِذَا كَانَ الثَّوْبُ ضَيِّقًا

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، قَالَ حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ الصَّلاَةِ، فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ فَقَالَ خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، فَجِئْتُ لَيْلَةً لِبَعْضِ أَمْرِي، فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي وَعَلَىَّ ثَوْبٌ وَاحِدٌ، فَاشْتَمَلْتُ بِهِ وَصَلَّيْتُ إِلَى جَانِبِهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ ‏"‏ مَا السُّرَى يَا جَابِرُ ‏"‏‏.‏ فَأَخْبَرْتُهُ بِحَاجَتِي، فَلَمَّا فَرَغْتُ قَالَ ‏"‏ مَا هَذَا الاِشْتِمَالُ الَّذِي رَأَيْتُ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ كَانَ ثَوْبٌ‏.‏ يَعْنِي ضَاقَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنْ كَانَ وَاسِعًا فَالْتَحِفْ بِهِ، وَإِنْ كَانَ ضَيِّقًا فَاتَّزِرْ بِهِ ‏"

Narrated By Said bin Al-Harith : I asked Jabir bin 'Abdullah about praying in a single garment. He said, "I travelled with the Prophet during some of his journeys, and I came to him at night for some purpose and I found him praying. At that time, I was wearing a single garment with which I covered my shoulders and prayed by his side. When he finished the prayer, he asked, 'O Jabir! What has brought you here?' I told him what I wanted. When I finished, he asked, 'O Jabir! What is this garment which I have seen and with which you covered your shoulders?' I replied, 'It is a (tight) garment.' He said, 'If the garment is large enough, wrap it round the body (covering the shoulders) and if it is tight (too short) then use it as an Izar (tie it around your waist only.)'"

سعید بن حارث سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا ایک کپڑے میں نماز پڑھنا کیسا ہے؟ انہوں نے کہا: میں ایک سفر میں (غزوہ بواط میں) نبیﷺ کے ساتھ نکلا۔ رات کو میں ایک کام کیلئے (آپﷺ کے پاس) آیا میں نے دیکھا آپﷺ نماز پڑھ رہے ہیں اس وقت میرے بدن پر ایک ہی کپڑا تھا میں نے اس کو لپیٹ لیا اور آپﷺ کے پہلو میں نماز پڑھنے لگا ۔ جب آپﷺ نماز پڑھ چکے تو آپﷺ نے فرمایا: جابر تم رات کو کیوں آیا میں نے اپنا کام بیان کیا جب میں کہہ چکا تو آپﷺ نے فرمایا: یہ کپڑا لپیٹا کیسا جو میں نے دیکھا ۔ میں نے کہا: ایک ہی کپڑا تھا ( کیا کروں)۔ آپﷺ نے فرمایا: اگر وہ کشادہ ہو تو اس میں التحاف کرو اور اگر تنگ ہو تو (صرف) تہہ بند کرلے۔


حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلٍ، قَالَ كَانَ رِجَالٌ يُصَلُّونَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَاقِدِي أُزْرِهِمْ عَلَى أَعْنَاقِهِمْ كَهَيْئَةِ الصِّبْيَانِ، وَقَالَ لِلنِّسَاءِ لاَ تَرْفَعْنَ رُءُوسَكُنَّ حَتَّى يَسْتَوِيَ الرِّجَالُ جُلُوسًا

Narrated By Sahl : The men used to pray with the Prophet with their Izars tied around their necks as boys used to do; therefore the Prophet told the women not to raise their heads till the men sat down straight (while praying).

حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ کئی آدمی نبیﷺ کے ساتھ بچوں کی طرح اپنی ازاریں اپنی گردنوں پر باندھے ہوئے نماز پڑھا کرتے اور (آپﷺ کے زمانے میں) عورتوں سے یہ کہا جاتا تم (نماز میں) اپنا سر (سجدے سے) اس وقت تک مت اٹھاؤ، جب تک کہ مرد سیدھے ہوکر بیٹھ نہ جائیں۔

7. باب الصَّلاَةِ فِي الْجُبَّةِ الشَّأْمِيَّةِ

وَقَالَ الْحَسَنُ فِي الثِّيَابِ يَنْسُجُهَا الْمَجُوسِيُّ لَمْ يَرَ بِهَا بَأْسًا‏.‏ وَقَالَ مَعْمَرٌ رَأَيْتُ الزُّهْرِيَّ يَلْبَسُ مِنْ ثِيَابِ الْيَمَنِ مَا صُبِغَ بِالْبَوْلِ‏.‏ وَصَلَّى عَلِيٌّ فِي ثَوْبٍ غَيْرِ مَقْصُورٍ‏

حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ فَقَالَ ‏"‏ يَا مُغِيرَةُ، خُذِ الإِدَاوَةَ ‏"‏‏.‏ فَأَخَذْتُهَا فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى تَوَارَى عَنِّي فَقَضَى حَاجَتَهُ، وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَأْمِيَّةٌ، فَذَهَبَ لِيُخْرِجَ يَدَهُ مِنْ كُمِّهَا فَضَاقَتْ، فَأَخْرَجَ يَدَهُ مِنْ أَسْفَلِهَا، فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ فَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ صَلَّى‏

Narrated By Mughira bin Shu'ba : Once I was travelling with the Prophet and he said, "O Mughira! take this container of water." I took it and Allah's Apostle went far away till he disappeared. He answered the call of nature and was wearing a Syrian cloak. He tried to take out his hands from its sleeve but it was very tight so he took out his hands from under it. I poured water and he performed ablution like that for prayers and passed his wet hands over his Khuff (leather socks) and then prayed.

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا: میں ایک سفر میں (غزوۂ تبوک میں) نبیﷺکے ساتھ تھا آپﷺ نے فرمایا: مغیرہ پانی کا چھاگل اٹھالے، میں نے اٹھالی پھرآپﷺچلے (جنگل کو تشریف لےگئے) یہاں تک کہ میری نظر سے چھپ گئے آپﷺ نے اپنی حاجت پوری کی اس وقت آپﷺ ایک شام کا چغہ پہنے ہوئے تھے۔ آپﷺ نے اس کی آستین میں سے ہاتھ نکالنا چاہا وہ تنگ ہوئی آخر آپﷺ نے اس کے نیچے سے ہاتھ نکالا۔ میں نے آپﷺ پر وضو کا پانی ڈالا آپﷺ نے نماز کے وضو کی طرح وضو کیا اور دونوں موزوں پر مسح کیا، پھر نماز پڑھی۔

8. باب كَرَاهِيَةِ التَّعَرِّي فِي الصَّلاَةِ

حَدَّثَنَا مَطَرُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ، قَالَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَنْقُلُ مَعَهُمُ الْحِجَارَةَ لِلْكَعْبَةِ وَعَلَيْهِ إِزَارُهُ‏.‏ فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ عَمُّهُ يَا ابْنَ أَخِي، لَوْ حَلَلْتَ إِزَارَكَ فَجَعَلْتَ عَلَى مَنْكِبَيْكَ دُونَ الْحِجَارَةِ‏.‏ قَالَ فَحَلَّهُ فَجَعَلَهُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ، فَسَقَطَ مَغْشِيًّا عَلَيْهِ، فَمَا رُئِيَ بَعْدَ ذَلِكَ عُرْيَانًا صلى الله عليه وسلم

Narrated By Jabir bin 'Abdullah : While Allah's Apostle was carrying stones (along) with the people of Mecca for (the building of) the Ka'ba wearing an Izar (waist-sheet cover), his uncle Al-'Abbas said to him, "O my nephew! (It would be better) if you take off your Izar and put it over your shoulders underneath the stones." So he took off his Izar and put it over his shoulders, but he fell unconscious and since then he had never been seen naked.

عمرو بن دینار سے مروی نے انہوں نے کہا: میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہﷺ (نبوت سے پہلے جاہلیت کے زمانے میں) کعبہ بنانے کیلئے لوگوں کے ساتھ پتھر ڈھونڈتے آپﷺ تہہ بند باندھے ہوئے تھے، حضرت عباس رضی اللہ عنہ آپﷺ کے چچا نے آپﷺ سے کہا: اے میرےبھتیجے! اگر تم تہہ بند اتارتے اور اس کو اپنے کندھوں پر پتھر کے نیچے ڈال دیتے (تو تم پر آسانی ہوگی) جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپﷺ نے تہہ بند ( کو اتار کر ) کندھے پر ڈال لیا، اسی وقت بے ہوش ہوکرگرے اس کے بعد آپﷺ کو ننگا نہیں دیکھا گیا۔

9. باب الصَّلاَةِ فِي الْقَمِيصِ وَالسَّرَاوِيلِ وَالتُّبَّانِ وَالْقَبَاءِ

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَامَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ عَنِ الصَّلاَةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ فَقَالَ ‏"‏ أَوَكُلُّكُمْ يَجِدُ ثَوْبَيْنِ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ سَأَلَ رَجُلٌ عُمَرَ فَقَالَ إِذَا وَسَّعَ اللَّهُ فَأَوْسِعُوا، جَمَعَ رَجُلٌ عَلَيْهِ ثِيَابَهُ، صَلَّى رَجُلٌ فِي إِزَارٍ وَرِدَاءٍ، فِي إِزَارٍ وَقَمِيصٍ، فِي إِزَارٍ وَقَبَاءٍ، فِي سَرَاوِيلَ وَرِدَاءٍ، فِي سَرَاوِيلَ وَقَمِيصٍ، فِي سَرَاوِيلَ وَقَبَاءٍ، فِي تُبَّانٍ وَقَبَاءٍ، فِي تُبَّانٍ وَقَمِيصٍ ـ قَالَ وَأَحْسِبُهُ قَالَ ـ فِي تُبَّانٍ وَرِدَاءٍ‏

Narrated By Abu Huraira : A man stood up and asked the Prophet about praying in a single garment. The Prophet said, "Has every one of you two garments?" A man put a similar question to 'Umar on which he replied, "When Allah makes you wealthier then you should clothe yourself properly during prayers. Otherwise one can pray with an Izar and a Rida' (a sheet covering the upper part of the body.) Izar and a shirt, Izar and a Qaba', trousers and a Rida, trousers and a shirt or trousers and a Qaba', Tubban and a Qaba' or Tubban and a shirt." (The narrator added, "I think that he also said a Tubban and a Rida.")

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا: ایک شخص نبیﷺ کے پاس آن کھڑا ہوا اور آپﷺ سے پوچھنے لگا ایک کپڑے میں نماز پڑھنا کیسا ہے آپﷺ نے فرمایا: بھلا تم میں ہرشخص کو دو کپڑے مل سکتے ہیں۔ پھر ایک شخص نے (یہی مسئلہ) حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا انہوں نے کہا: جب اللہ نے تم کو وسعت دی تو تم بھی وسعت کے ساتھ رہو ۔(اب) چاہے کہ ہرشخص نماز میں اپنے کپڑے اکھٹا کرلے، کوئی ازار اور چادر میں نماز پڑھے، کوئی ازار وقمیص میں، کوئی ازار وقبا میں، کوئی پاجامہ اور چادر میں، کوئی پاجامہ اورقمیص میں، کوئی پاجامہ اور قبا میں، کوئی جانگیا اور قبا میں، اور کوئی جانگیا اورقمیص میں، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ بھی کہا : کہ کوئی جانگیا اور چادر میں۔


حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ فَقَالَ ‏"‏ لاَ يَلْبَسُ الْقَمِيصَ وَلاَ السَّرَاوِيلَ وَلاَ الْبُرْنُسَ وَلاَ ثَوْبًا مَسَّهُ الزَّعْفَرَانُ وَلاَ وَرْسٌ، فَمَنْ لَمْ يَجِدِ النَّعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسِ الْخُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا حَتَّى يَكُونَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ ‏"‏‏.‏ وَعَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ‏

Narrated By Ibn 'Umar : A person asked Allah's Apostle, "What should a Muhrim wear?" He replied, "He should not wear shirts, trousers, a burnus (a hooded cloak), or clothes which are stained with saffron or Wars (a kind of perfume). Whoever does not find a sandal to wear can wear Khuffs, but these should be cut short so as not to cover the ankles.

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ایک شخص نے رسول اللہﷺ سے پوچھا: احرام باندھا ہوا شخص کیا پہنے آپﷺ نے فرمایا: قمیص نہ پہنے، نہ پاجامہ اور نہ باران کوٹ نہ وہ کپڑا جس میں زعفران یا ورس لگی ہو۔ پھر جس شخص کو جوتیاں نہ ملیں (جن میں پاؤں کھلا رہتا ہے) وہ موزے کاٹ کر پہن لے کہ ٹخنوں سے نیچے ہو جائیں۔ اور ابن ابی ذئب نے اس حدیث کو نافع سے بھی روایت کیا انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے نبیﷺ سے ایسا روایت کی۔

10. باب مَا يَسْتُرُ مِنَ الْعَوْرَةِ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَىْءٌ‏

Narrated By Abu Said Al-Khudri : Allah's Apostle forbade Ishtimal-As-Samma' (wrapping one's body with a garment so that one cannot raise its end or take one's hand out of it). He also forbade Al-Ihtiba' (sitting on buttocks with knees close to abdomen and feet apart with the hands circling the knees) while wrapping oneself with a single garment, without having a part of it over the private parts.

حضرت ابو سعیدخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہﷺ نے اشتمال صماء سے منع فرمایا، اور گوٹ مار کر ایک کپڑے میں بیٹھنے سے جب کہ اس کی شرمگاہ پر کچھ نہ ہو۔


حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ بَيْعَتَيْنِ عَنِ اللِّمَاسِ وَالنِّبَاذِ، وَأَنْ يَشْتَمِلَ الصَّمَّاءَ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ‏

Narrated By Abu Huraira : The Prophet forbade two kinds of sales i.e. Al-Limais and An-Nibadh (the former is a kind of sale in which the deal is completed if the buyer touches a thing, without seeing or checking it properly and the latter is a kind of a sale in which the deal is completed when the seller throws a thing towards the buyer giving him no opportunity to see, touch or check it) and (the Prophet forbade) also Ishtimal-As-Samma' and Al-Ihtiba' in a single garment.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبیﷺنے دو طرح کی بیع و فروخت سے منع فرمایا۔ ایک تو چھونے کی بیع سے ، دوسرے پھینکنے کی بیع سے اور اشتمال صماء سے اور ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھنے سے۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ بَعَثَنِي أَبُو بَكْرٍ فِي تِلْكَ الْحَجَّةِ فِي مُؤَذِّنِينَ يَوْمَ النَّحْرِ نُؤَذِّنُ بِمِنًى أَنْ لاَ يَحُجَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، وَلاَ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ‏.‏ قَالَ حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ثُمَّ أَرْدَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلِيًّا، فَأَمَرَهُ أَنْ يُؤَذِّنَ بِبَرَاءَةَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَأَذَّنَ مَعَنَا عَلِيٌّ فِي أَهْلِ مِنًى يَوْمَ النَّحْرِ لاَ يَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، وَلاَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ‏

Narrated By Abu Huraira : On the Day of Nahr (10th of Dhul-Hijja, in the year prior to the last Hajj of the Prophet when Abu Bakr was the leader of the pilgrims in that Hajj) Abu Bakr sent me along with other announcers to Mina to make a public announcement: "No pagan is allowed to perform Hajj after this year and no naked person is allowed to perform the Tawaf around the Ka'ba. Then Allah's Apostle sent 'All to read out the Surat Bara'a (At-Tauba) to the people; so he made the announcement along with us on the day of Nahr in Mina: "No pagan is allowed to perform Hajj after this year and no naked person is allowed to perform the Tawaf around the Ka'ba."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس حج کے موقع پر مجھے حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ نے یوم نحر (ذی الحجہ کی دسویں تاریخ) میں اعلان کرنے والوں کے ساتھ بھیجا ۔ تاکہ ہم منیٰ میں اس بات کا اعلان کردیں کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرسکتا اور کوئی اور نہ کوئی ننگا بیت اللہ کا طواف کرسکتا ہے۔ حمید بن عبدالرحمٰن نے کہا رسول اللہﷺ نے (ابو بکر رضی اللہ عنہ کو بھیجنے کے بعد) ان کے پیچھے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور ان کو یہ حکم دیا کہ سورت براءت سنا دیں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تو ہمارے ساتھ منیٰ میں دسویں تاریخ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی یہ سنایا اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے اور نہ کوئی ننگا بیت اللہ کا طواف کرے۔

123Last ›